فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قبضہ کے بعد بیٹے کی زمین کو والد کا اس کی اجازت کے بغیر ٹھیکے پر دینا — شرعی حکم

فتویٰ نمبر 223202610137 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قبضہ کے بعد بیٹے کی زمین کو والد کا اس کی اجازت کے بغیر ٹھیکے پر دینا — شرعی حکم

سوال
میری شادی ہوئی، اور حق مہر میں کچھ زمین لکھی گئی،جس کا ضامن میرا رشتہ دار بنا۔۔۔ ہمارا گھر ہنسی خوشی چل رہا ہے، لیکن میرے سسرال والے میرے ضامن سے حق مہر والی زمین کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ضامن نے میرے والد صاحب کے ذریعے میری زمین پانچ سال کیلئے ٹھیکے پر دے دی، جبکہ میرے والد نے زمین مجھے الگ کرکے مکمل قبضہ دے دیا تھا، جیساکہ باقی اولاد کو ان کے حصہ کی زمین الگ کرکے مکمل قبضہ دے دیا ہے۔ آیا والد کا میری زمین میری رضامندی کے بغیر ٹھیکے پر دینا شرعاً جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جب زمین الگ کرکے مکمل قبضہ دے دیا جائے تو وہ موھوب لہ اس زمین کا مالک بن جاتا ہے، صورتِ مسئولہ میں جب مکمل قبضہ بیٹے کو دے دیا گیا تھا تو بیٹا اس زمین کا مالک بن گیا تھا، پھر والد کا اس کی زمین کو ٹھیکے پر دینا بیٹے کے مال میں تصرف کرنا ہے اور فقہاء کرامؒ نے حدیث شریف : "أنت ومالك لأبيك" کا معنی یہ لکھا ہے کہ والد اپنی ضرورت کے بقدر بیٹے کا مال اس کی اجازت کے بغیرلے سکتا ہے ، جبکہ زیرِ بحث صورت میں والد کو اس مال کی ضرورت نہیں تھی، لہٰذا اس کا بیٹے کی زمین کو ٹھیکے پر دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔ لما في غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر: فالأب يتملك مال ولده عند الحاجة إليه لقوله - صلى الله تعالى عليه وسلم - «أنت ومالك لأبيك» (الفن الخامس من الأشباه والنظائر وهو فن الحيل، الثالث في الزكاة، 4/ 222 ط: دار الكتب العلمية) ولما في المبسوط للسرخسي: لأن الشرع أضاف مال الولد إلى الأب بقوله - صلى الله عليه وسلم - «أنت ومالك لأبيك» وأثبت له حق تملك المال على ولده عند الحاجة؛ ولهذا كان له أن ينفق من ماله بالمعروف (كتاب الدعوى، باب ادعاء الولد، 17/ 115 ط: دارالفكر) البتہ سائل کو بھی چاہیے کہ وہ حق مہر مکمل ادا کردے یا جتنا مہر ادا نہیں کیا بیوی کی رضامندی سے معاف کروا لے، ورنہ آخرت میں سخت پکڑ ہوگی، آپﷺ کا فرمان ہے: عن ميمون الكردي، عن أبيه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم لا مرة ولا مرتين ولا ثلاثة حتى بلغ عشر مرار: «أيما رجل تزوج امرأة بما قل من المهر أو كثر ليس في نفسه أن يؤدي إليها حقها، خدعها، فمات ولم يؤد إليها حقها، لقي الله يوم القيامة وهو زان» (المعجم الأوسط، باب الألف، من اسمه أحمد، رقم الحدیث: 1851 2/ 237 ط: دار الحرمين) جو شخص کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر شادی کرے ، اور اس کے دل میں اس عورت کے حق مہر کو ادا کرنے کا اِرادہ نہ ہو ؛ بلکہ اس نے اسے دھوکہ دیا ہو پھر وہ عورت کا حق ادا کئے بغیر مرجائے تواللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اس کا شمار بدکاروں میں ہوگا ۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: اَعیان و منافع کی تقسیم