فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

فجر و عصر کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر درود شریف اور کلمہ طیبہ پڑھنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 223202610134 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

فجر و عصر کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر درود شریف اور کلمہ طیبہ پڑھنے کا شرعی حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں فجر اور عصر کی نماز کے بعد اجتماعی شکل میں گھٹلیوں پرکبھی درود شریف اور کبھی کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں، ہم اس کو لازم نہیں سمجھتے اور نہ ہی کسی نہ بیٹھنے والے کو تنقید کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو بیٹھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ کیا ہمارا اس طرح اجتماعی شکل میں دروود شریف یا کلمہ طیبہ پڑھنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب
اگر واقعۃً مذوکورہ باتوں کو لحاظ رکھتے ہوئے یہ عمل کیا جاتا ہے تو شرعاً اس کی اجازت ہے ، لیکن وقتاً فوقتاً مجلس میں یہ اعلان بھی ہوجائے تو بہت بہتر ہے کہ جس کو بھی جانا ہے ، وہ جاسکتا ہے۔ تاہم اگر کسی دینی مدرسہ میں بطور وظیفہ طلبہ سے اس کا اہتمام کرایا جاتا ہو تو انتظامی مصلحت کی بنا پر طلبہ کو پابند کرنے کی بھی گنجائش ہے۔  فقط واللہ اعلم
حوالہ: عبادات