فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

خلع کے بعد رجوع: کیا حلالہ ضروری ہے؟

فتویٰ نمبر 223202610130 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

خلع کے بعد رجوع: کیا حلالہ ضروری ہے؟

سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا (ناصر سبحان) بیوی مسماۃ ندا بشیرسے جھگڑا ہوا اور اس نے مجھ سے خلع لے لی۔ اب ہم دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں، آیا حلالہ کرانا ہوگا؟رجوع کی صورت کیا ہے؟بينوا فتوجروا
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگرخاوند نے پہلے یا بعد میں کوئی طلاق نہیں دی فریقین نے باہم رضامندی سے صرف عقدِ خلع کیا ہے تو اس سے صرف ایک طلاق بائن واقع ہوئی تھی ،لہٰذا اب اگر فریقین رجوع کرنا چاہیں  تو دو گواہوں کی موجودگی نئے حق مہر کے ساتھ  از سرِ نو نکاح کرلیا جائے، حلالہ کی ضرورت نہیں۔  لما في الفتاوى الهندية: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة (كتاب الطلاق، 1/ 488 ط: دارالفكر) وفی الدر المختار:  الخلع:( و ) حكمه أن ( الواقع به ) ولو بلا مال ( وبالطلاق ) الصريح ( على مال طلاق بائن )۔ (الدر المختار، جلد:3،صفحہ:444) و فيه أيضاً: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها (كتاب الطلاق، 1/ 472 ط: دارالفکر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق