خلع کے بعد رجوع: کیا حلالہ ضروری ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا (ناصر سبحان) بیوی مسماۃ ندا بشیرسے جھگڑا ہوا اور اس نے مجھ سے خلع لے لی۔ اب ہم دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں، آیا حلالہ کرانا ہوگا؟رجوع کی صورت کیا ہے؟بينوا فتوجروا
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگرخاوند نے پہلے یا بعد میں کوئی طلاق نہیں دی فریقین نے باہم رضامندی سے صرف عقدِ خلع کیا ہے تو اس سے صرف ایک طلاق بائن واقع ہوئی تھی ،لہٰذا اب اگر فریقین رجوع کرنا چاہیں تو دو گواہوں کی موجودگی نئے حق مہر کے ساتھ از سرِ نو نکاح کرلیا جائے، حلالہ کی ضرورت نہیں۔
لما في الفتاوى الهندية:
إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة
(كتاب الطلاق، 1/ 488 ط: دارالفكر)
وفی الدر المختار:
الخلع:( و ) حكمه أن ( الواقع به ) ولو بلا مال ( وبالطلاق ) الصريح ( على مال طلاق بائن )۔
(الدر المختار، جلد:3،صفحہ:444)
و فيه أيضاً:
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها
(كتاب الطلاق، 1/ 472 ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق