جماعت، زکوۃ کے مصرف اور مدارس میں چندہ دینے کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں :
۱۔ ہمارے ہاں جماعت کے وقت ایک آدھ منٹ رہ جانےکی صورت میں آنے والے مخصوص ھیئت یعنی نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں، آیا اس طرح کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
۲۔ ہمارے ہاں تبلیغی حضرات آتے ہیں تو میں زکوۃ کی مد سے ان کا تعاون کرتا ہوں کہ کبھی پھل لے کر دے دیا اور کبھی نقدی دے دی، آیا اس طرح کرنے سے زکوۃ اادا ہوگی یا نہیں؟
۳۔ میرے پاس بعض مدارس کے چندہ لینے والے آتے ہیں کہ ہم نے کمرہ تعمیر کرنا ہے، درسگاہ تعمیر کرنی ہے، تو میں ان کی زکوۃ کی مد سے تعاون کرتا ہوں، آیا اس طرح زکوۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟
جواب
۱۔ نمازِباجماعت کے آداب میں سے ہے کہ جب جماعت کھڑی ہونے میں وقت رہ رہا ہو تو آنے والا بیٹھ کر انتظار کرے، البتہ اگر عذر ہے تو کھڑے ہوکر بھی انتظار کر سکتا ہے، بہر صورت جماعت کھڑی ہونے سے پہلے مخصوص ھیئت مثلاً ہاتھ نماز کی طرح باندھ کر کھڑے ہوجانا کسی روایت سے ثابت نہیں اور نہ ہی سلف صالحین سے ثابت ہے، لہٰذا اس سے پرہیز کیا جائے، اور جماعت کھڑی ہونے میں وقت رہتا ہو تو بیٹھ کر انتظار کیا جائے۔
۲۔ زکوۃ کی رقم سے پھل وغیرہ خرید کر اجتماعی طور پر جماعت والوں کو دینا درست نہیں کہ جماعت میں بعض مالدار اور بعض اوقات سید ہوتے ہیں، البتہ خوب سوچ و بیچار کے بعد جماعت کے کسی ساتھی کو مستحقِ زکوۃ سمجھتے ہوئےزکوۃ دینا درست ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اپنے علاقہ کے حاجت مندوں کو ترجیح دے، بلکہ زکوۃ کا بہترین مصرف مدارس کے غریب طلباء ہیں کہ جن کو زکوۃ دینے سے دوہرااجر و ثواب ملے گا، ایک زکوۃ کی ادائیگی کا، دوسرااشاعتِ دین و مہمانانِ رسول کے اکرام کا۔
الفتاوى الهندية:
الباب السابع في المصارف، (منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة
(كتاب الزكوة، 1/ 187 ط: دارالفكر)
۳۔ مدارس والے تعمیرات کی مد میں زکوۃ وصول کرنے کے بعد تملیک ِ شرعی کروا کر تعمیرات کرواتے ہیں ، تو ان کو زکوۃ دینا درست ہے،بصورتِ دیگر ان کو تعمیرات کیلئے زکوۃ دینا جائز نہیں۔
الدر المختار:
وشرعا (تمليك) خرج الإباحة (جزء مال ۔۔۔(من مسلم فقير) ولو معتوها (غير هاشمي ولا مولاه) ۔۔۔مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه) فلا يدفع لأصله وفرعه (لله تعالى)
قال ابن عابدينؒ: (قوله: خرج الإباحة) فلا تكفي فيها
(الدر مع الرد، كتاب الزكوة، 2/ 256 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات