مضاربت میں غیر متعین نفع اور شرعی جواز
سوال
میری والدہ نے ایک دوائیوں کے کاروبار کرنے والے کو ایک لاکھ پچاس ہزار کاروبار میں شراکت کیلئے دئیے ۔ اب وہ ہمیں کبھی بارہ سو اور کبھی پندرہ سو دیتا ہے۔ اور ہماری اس سے نفع کی تقسیم یا نقصان میں شرکت کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ بس وہ جتنے دے دے ہم لے لیتے ہیں۔اور جب ہم اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کریں گے تو وہ مکمل رقم واپس کردے گا۔
آیا ہمارے لئے نفع لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں آپ کا نفع لینا شرعاً جائز نہیں ہے بلکہ یہ سود ہے۔ کیونکہ یہ مضاربت نہیں بلکہ قرض ہے اور قرض پر نفعہ لینا سود ہے جو کہ حرام ہے۔
الدر المختار میں ہے:
"وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه۔
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام۔"
(باب المرابحۃ و التولیۃ، فصل فی القرض: 5 / 166، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: اَعیان و منافع کی تقسیم