فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مضاربت میں غیر متعین نفع اور شرعی جواز

فتویٰ نمبر 223202610120 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مضاربت میں غیر متعین نفع اور شرعی جواز

سوال
میری والدہ نے ایک دوائیوں کے کاروبار کرنے والے کو ایک لاکھ پچاس ہزار کاروبار میں شراکت کیلئے دئیے ۔ اب وہ ہمیں کبھی بارہ سو اور کبھی پندرہ سو دیتا ہے۔ اور ہماری اس سے نفع کی تقسیم یا نقصان میں شرکت کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ بس وہ جتنے دے دے ہم لے لیتے ہیں۔اور جب ہم اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کریں گے تو وہ مکمل رقم واپس کردے گا۔ آیا ہمارے لئے نفع لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں آپ کا نفع لینا شرعاً جائز نہیں ہے بلکہ یہ سود ہے۔ کیونکہ یہ مضاربت نہیں بلکہ قرض ہے اور قرض پر نفعہ لینا سود ہے جو کہ حرام ہے۔ الدر المختار میں ہے:   "وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه۔   وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام۔"   (باب المرابحۃ و التولیۃ، فصل فی القرض: 5 / 166، ط: سعید) فقط واللہ اعلم
حوالہ: اَعیان و منافع کی تقسیم