والد کی اجازت سے بیٹے کا اضافی کاروبار اور خرچ: شرعی حکم
سوال
ایک والد کے تین بیٹے ہیں اور والد نے تینوں کو علیحدہ علیحدہ کریانہ کی دکان بنا دیں ہیں، لیکن تینوں کا مالک والد ہے، تین میں سے ایک بیٹا اپنی دکان کے متصل دوسری دکان میں بھی کاروبار کرتا ہے، اور یہ بھی والد نے ہی کروا دی ہے، اور اس کی اور تمام دکانوں کی آمدنی والد کے پاس ہی جاتی ہے، اب وہی بیٹا جو دو کاروبار کرتا ہے، وہ اپنا اور اپنی اولاد پر خرچہ زیادہ کرتا ہے، جبکہ باقی بیٹوں کو اس پر اعتراض ہے، اور باقی بیٹے اضافی کاروبار کرنے کیلئے تیار بھی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔تو آیا زیادہ خرچہ کرنا اس بیٹے کیلئے جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں والد کو چاھیے کہ وہ اس بیٹے کو جو اضافی خرچ درکار ہو وہ اپنے ہاتھ سے دے ، ایسی صورت میں دیگر بیٹوں کا اعتراض کرنا شرعاً درست نہیں ہوگا، خصوصاً جبکہ وہ خود اضافی کام کرنے سے جان چھڑاتے ہوں۔
البتہ اگر مذکورہ بیٹا والد کی اجازت کے بغیر اضافی خرچ کرتا ہے تو شرعاً یہ جائز نہیں۔ لما في مجلة الأحكام العدلية:
كل يتصرف في ملكه كيفما شاء
(الكتاب العاشر: الشركات، الباب الثالث، الفصل الأول، رقم المادة :1192، ص: 230 ط: نورمحمد)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاملات