فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عورتوں کے قبرستان جانے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 220202610104 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عورتوں کے قبرستان جانے کا شرعی حکم

سوال
محرم یا اس کے علاوہ کسی دن عورتوں کا قبرستان جانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
 عورتوں کا قبرستان جانا بعض فقہاء کرامؒ کے ہاں بالکل جائز ہی نہیں ہے، لیکن راجح یہ ہے کہ جوان عورت کا قبرستان جانا جائز نہیں ہے، البتہ بوڑھی عورت درج ذیل تین شرائط کا لحاظ رکھے تو اس کا قبرستان جانا جائز ہے : ایک یہ کہ پردہ کے ساتھ جائے، دوسرا یہ کہ خوشبولگا کر یا بن سنور کر نہ جائے، تیسرا یہ کہ قبرستان میں کسی غیر شرعی کام کا ارتکاب نہ کرے، مثلاً اہلِ قبور کو حاجت روا سمجھنا، ان سے اپنی حاجتین مانگنا، رونا پیٹنااور دیگر تمام بدعات جو قبور پر کی جاتی ہیں ، ان سے پرہیز کرے۔ مذکورہ شرائط میں سے ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو پھر بوڑھی عورت کا بھی قبرستان جانا جائز نہیں ہے، فرمان نبویﷺ کے مطابق اس پر لعنت برستی ہے۔ لما في رد المحتار: وقال الخير الرملي: إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز، وعليه حمل حديث «لعن الله زائرات القبور» وإن كان للاعتبار والترحم من غير بكاء والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز. ويكره إذا كن شواب كحضور الجماعة في المساجد اهـ وهو توفيق حسن (الرد مع الدر، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في زيارة القبور، 2/ 242 ط: دارالفكر) ولما في حاشية الطحاوي على مراقي الفلاح: في السراج وأما النساء إذا أردن زيارة القبور إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب كما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة وعليه يحمل الحديث الصحيح لعن الله زائرات القبور وإن كان للاعتبار والترحم والتبرك بزيارة قبور الصالحين من غير ما يخالف الشرع فلا بأس به إذا كن عجائز وكره ذلك للشابات كحضورهن في المساجد للجماعات ا هـ وحاصله أن محل الرخص لهن إذا كانت الزيارة على وجه ليس فيه فتنة (كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، فصل في زيارة القبور، ص: 620ط:دارالكتب العلمية) هكذا في البحر الرائق (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الصلاة، 2/210 ط: دار الكتاب الإسلامي) فقط واللہ اعلم
حوالہ: جنائز