محرم کے مہینے میں قبروں کی مرمت اور قبرستان میں ایصالِ ثواب کیلئے کھانا تقسیم کرنے کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں :
۱۔ محرم کے مہینہ میں قبروں کی مرمت و لیپائی کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
۲۔ مردوں کے ایصالِ ثواب کیلئے محرم میں قبرستان کھانا لے جاکر تقسیم کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
۱۔ شریعت کا مزاج ہے کہ قبر کے ساتھ تعظیم میں مبالغہ کاسلوک نہ کیا جائے، اسی لئے قبر کو پختہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
لما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ويكره تجصيص القبر وتطيينه۔۔۔ (كتاب الصلاة، فصل أحكام الشهيد، 1/ 320 ط: دار الكتب العلمية)
لیکن اگر قبر کو دھسنے سے بچانا اور محفوظ کرنا مقصود ہوتو قبر کو مٹی سے لیپ دینے کی فقہاء کرام ؒ نے اجازت دی ہے۔ لما في رد المحتار:
وفي شرح المنية عن منية المفتي: المختار أنه لا يكره التطيين
(الرد مع الدر، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 237 ط: دار الفكر)
ولما في البناية شرح الهداية:
في " المحيط ": لا يجص القبر ولا يطين، في رواية الكرخي، وكره التجصيص الحسن والنخعي، والثوري، ومالك، والشافعي، وأحمد، وأباح أحمد التطيين.
وفي " منية المفتي ": المختار أنه لا يكره
(كتاب الصلاة، باب الجنائز، فصل في الدفن، 3/ 259 ط: دار الكتب العلمية)
ولما في مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:
النوازل لا بأس بتطيينه وفي الغياثية: وعليه الفتوى
(كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، ص: 226 ط: المكتبة العصرية)
اور اگر قبر دھنس جائے تو دوبارہ لیپنا بھی جائز ہے لیکن کسی خاص دن مثلاً محرم میں ہی قبروں کو دوبارہ لیپنا آپ ﷺ اور صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین ؒ سے ثابت نہیں ہے، اس لئےاس کو چھوڑنا ضروری ہے۔
لما في الفتاوى الهندية:
وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها، كذا في التتارخانية، وهو الأصح وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي
(كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل السادس في القبر، 1/ 166 ط: دار الفكر)
ولما في مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:
وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها لأن الرسول صلى الله عليه وسلم مر بقبر ابنه إبراهيم فرأى فيه جحرا فسده وقال: "من عمل عملا فليتقنه"
(كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، فصل في حملها ودفنها، ص: 226 ط: المكتبة العصرية)
۲۔ غریبوں کو اللہ تعالی کی رضا کیلئے کھانا کھلانا اور اس کا ثواب اپنے مُردوں کو پہنچانا جائز ہے، لیکن کھانا قبرستان لے جاکر تقسیم کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، اس لئے اس سے بچنا چاہیے۔
لما في البحر الرائق:
والأصل فيه أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا للكتاب والسنة
(البحر الرائق شرح كنز الدقائق مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الحج، باب الحج عن الغير، 3/ 63 ط: دار الكتاب الإسلامي)
ولما في صحيح البخاري:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد»
(كتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور، 3/ 184 ط: دار طوق النجاة)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت