فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قبضہ سے پہلے موٹر سائیکل کو آگے فروخت کرنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 220202610100 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قبضہ سے پہلے موٹر سائیکل کو آگے فروخت کرنے کا شرعی حکم

سوال
ایک شخص فون کال پر ایک موٹر سائیکل خریدتا ہے، پھر اس پر ابھی قبضہ نہیں کیا ہوتا کہ دوسرے شخص کو آگے فروخت کر دیتا ہے، پھر وہ بھی قبضہ کرنے سے پہلے چوتھے شخص کو فروخت کردیتا ہےتو یوں فون کال پر کئی سودے ہوجاتے ہیں اور وہ موٹرسائیکل ابھی تک وہی شوروم میں کھڑی ہوتی ہے۔ آیا اس طرح خریدوفروخت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ صحتِ بیع کی منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مبیع پر بائع کا قبضہ بھی ہو، اسی لئے شریعت نے بیع قبل القبض کو ممنوع قرار دیا ہے، اور صورت مسئولہ میں مذکورہ خرید و فروخت بیع قبل القبض ہونے کی وجہ سے ناجائزاور فاسد ہے۔اور حاصل شدہ نفع حلال نہ ہوگا۔ لما فی المبسوط للسرخسي: ومن اشترى شيئا فلا يجوز له أن يبيعه قبل أن يقبضه (كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة ، 13/ 8 ط: دار المعرفة) فقط واللہ اعلم
حوالہ: بیوع