قبضہ سے پہلے موٹر سائیکل کو آگے فروخت کرنے کا شرعی حکم
سوال
ایک شخص فون کال پر ایک موٹر سائیکل خریدتا ہے، پھر اس پر ابھی قبضہ نہیں کیا ہوتا کہ دوسرے شخص کو آگے فروخت کر دیتا ہے، پھر وہ بھی قبضہ کرنے سے پہلے چوتھے شخص کو فروخت کردیتا ہےتو یوں فون کال پر کئی سودے ہوجاتے ہیں اور وہ موٹرسائیکل ابھی تک وہی شوروم میں کھڑی ہوتی ہے۔
آیا اس طرح خریدوفروخت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ صحتِ بیع کی منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مبیع پر بائع کا قبضہ بھی ہو، اسی لئے شریعت نے بیع قبل القبض کو ممنوع قرار دیا ہے، اور صورت مسئولہ میں مذکورہ خرید و فروخت بیع قبل القبض ہونے کی وجہ سے ناجائزاور فاسد ہے۔اور حاصل شدہ نفع حلال نہ ہوگا۔
لما فی المبسوط للسرخسي:
ومن اشترى شيئا فلا يجوز له أن يبيعه قبل أن يقبضه
(كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة ، 13/ 8 ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: بیوع