فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قسطوں پر موبائل فروخت دوبارہ اس سے خریدنے اور بیع عینہ کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 220202610099 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قسطوں پر موبائل فروخت دوبارہ اس سے خریدنے اور بیع عینہ کا شرعی حکم

سوال
میں قسطوں پر موبائل بیچتا ہوں کہ سودے کے وقت ریٹ متعین کرلیتا ہوں اور قسط کے شارٹ ہونے کی صورت میں قیمت میں اضافہ نہیں کرتا۔درج ذیل باتیں پوچھنی ہیں ۱۔ میرے پاس ایک آدمی موبائل قسطوں پر لینے آتا ہے، ہمیں قرائن سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کو نقد رقم کی ضرورت ہے، اور وہ واقعۃً ہم سے موبائل قسطوں پر لے کرنقد فروخت کرکے رقم حاصل کرلیتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسے آدمی کو موبائل فروخت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ ۲۔ ایک آدمی آکر کہتا ہے کہ میں نے اپنی ریڑھی کیلئے سامان خریدنا ہے، اگر میں ادھار خریدوں گا تو مجھے بہت مہنگے پڑجائے گا، اس لئے تم مجھے ادھار موبائل دے دو ، میں اس کو نقد فروخت کرکے اپنی ضرورت پوری کر لوں گا۔ آیا ایسے آدمی کو ادھار موبائل فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ۳۔ اسی طرح ایک شخص کو اپنی بیوی کے آپریشن کیلئے یا اپنے علاج کیلئے رقم کی ضرورت ہے ، ہم اسے ادھار پر موبائل فروخت کرسکتے ہیں، جسے وہ نقد فروخت کرکے اپنی ضرورت پوری کرلے؟ خلاصہ یہ پوچھنا ہے کہ ہم ان کو فروخت کرنے کے بعد خود خرید سکتے ہیں یا اپنے نمائندے کے واسطے سے خریداری کر سکتے ہیں یا وہ شخص خود جا کر کسی تیسرے فریق کو یہ چیزیں بیچے تو شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ کسی چیز کو ادھار فروخت کرنے کے بعد مکمل ثمن وصول ہونے سے پہلےپہلے دوبارہ اس چیز کو کم قیمت پر خریدنا(جبکہ اس کی ذات میں کوئی نقصان نہ ہوا ہو) جائز نہیں ہے۔ لما فی المحيط البرهاني في الفقه النعماني: يجب أن يعلم أن شراء ما باع الرجل بنفسه أو بيع له بأن باع وكيله بأقل مما باع ممن باع أو ممن قام مقام البائع كالوارث قبل نقد الثمن لا يجوز إذا كانت السلعة على حالها لم ينتقض بعيب (كتاب البيع، الفصل السادس: فيما يجوز وما لا يجوز بيعه، 6/ 385 ط: دار الكتب العلمية) ولما فی البحر الرائق : قيد بما باع لأن المبيع لو انتقص خرج أن يكون شراء ما باع فيكون النقصان من الثمن في مقابلة ما نقص من العين سواء كان النقصان من الثمن بقدر ما نقص منها أو بأكثر منه (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، کتاب البیوع، 6/ 90 ط: دار الكتاب الإسلامي) لہذا ذکر کردہ صورتوں میں ادھار موبائل بیچنے کے بعد نقد کم قیمت پر بائع یا اس کے نمائندہ کا دوبارہ خریدنا ناجائز ہے، لیکن اگر مشتری وہ موبائل بائع یا اس کے نمائندہ کے علاوہ کسی اجنبی شخص کو فروخت کرے تو ایسی صورت میں بائع کا مشتری کو ادھار موبائل فروخت کرنے كو مبسوط و ہدایہ وفتاوی عالمگیری میں بیع عینہ شمار کرکے مکروہ قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم بیع عینہ کرنے لگو گے اور کھیتی باڑی میں مصرورف ہوجاؤگے تو اللہ تعالی تمہیں ذلیل کردے گا۔ لما في المبسوط للسرخسي: وبيع العينة ما ورد الأثر بالذم فيه إذا اتبعتم أذناب البقر وقعدتم عن الجهاد ذللتم حتى يطمع فيكم وتفسير ما ذكر في الجامع الصغير أن الرجل إذا استقرض من آخر    شيئا فأبى أن يقرضه إلا بربح وعلم أن ذلك ربا فيبيع المقرض من المستقرض شيئا يساوي عشرة بخمسة عشر فيبيعه المقترض بعشرة فسلم له مقصوده وهو عشرة ويكون للمقرض عليه خمسة عشر (كتاب الوكالة، باب الوكالة في الرهن، 19/ 81 ط:دارالمعرفة) ولما في الهداية في شرح بداية المبتدي: قال: "ومن كفل عن رجل بألف عليه بأمره فأمره الأصيل أن يتعين عليه حريرا ففعل فالشراء للكفيل والربح الذي ربحه البائع فهو عليه" ومعناه الأمر ببيع العينة مثل أن يستقرض من تاجر عشرة فيتأبى عليه ويبيع منه ثوبا يساوي عشرة بخمسة عشر مثلا رغبة في نيل الزيادة ليبيعه المستقرض بعشرة ويتحمل عليه خمسة؛ سمي به لما فيه من الإعراض عن الدين إلى العين، وهو مكروه لما فيه من الإعراض عن مبرة الإقراض مطاوعة لمذموم البخل (كتاب الكفالة، 3/ 94 ط: دار احياء التراث العربي) مذکورہ حوالوں میں مشتری کا دوبارہ اسی بائع کو یا اس کے نمائندہ کو کم قیمت پر فروخت کرنے کی قید نہیں لگائی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ مشتری کا اجنبی شخص کو فروخت کرنا بھی اس میں داخل ہے،جیساکہ فتاوی عالگیری میں اس کی تصریح موجود ہے۔ اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها قال بعضهم تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولا يرغب المقرض في الإقراض طمعا في الفضل الذي لا يناله في القرض فيقول ليس يتيسر علي الإقراض ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهما وقيمته في السوق عشرة لتبيع في السوق بعشرة فيرضى بها المستقرض فيبيعه المقرض منه باثني عشر درهما ثم يبيعه المشتري في السوق بعشرة ليحصل لرب الثوب ربح درهمين بهذه التجارة ويحصل للمستقرض قرض عشرة (الفتاوى الهندية ، كتاب البيوع، الباب العشرون في البياعات المكروهة، 3/ 208 ط: دارالفکر) امام محمدؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ بیع میرے دل میں پہاڑوں کی طرح (بوجھل محسوس ہوتی ) ہے، سودخوروں نے اس كو گھڑا(ایجاد) کیا ہے۔ لما في رد المحتار: قال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا، وقد ذمهم رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم» أي اشتغلتم بالحرث عن الجهاد، وفي رواية «سلط عليكم شراركم فيدعوا خياركم فلا يستجاب لكم» وقيل إياك والعينة فإنها اللعينة (الدر مع الرد، كتاب الكفالة، مطلب بيع العينة، 5/ 326 ط: دارالفكر) الحاصل سوال میں ذکر کردہ صورتیں میں اگر خود بائع یا اس کا کوئی نمائندہ وہ موبائل کم قیمت پر خریدتا ہے تو یہ ناجائز ہیں۔ اگر مشتری اپنی مرضی سے کسی اور کو موبائل فروخت کرتا ہے تو پھر اس کی گنجائش ہے۔تاہم اس صورت میں شائع کا اس فروخت کرنے سے اجتناب کرنا افضل ہے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: بیوع