فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

جو ادمی بیوی کے حقوق ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو نکاح کرنے کا حکم

فتویٰ نمبر 218202610096 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

جو ادمی بیوی کے حقوق ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو نکاح کرنے کا حکم

سوال
ایسا آدمی جس کو یقین ہے کہ وہ بیوی کے حقوق ادا نہیں کر سکتا تو کیا وہ شادی کر سکتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جس آدمی کو یقینی طور پر معلوم ہوکہ وہ عورت پر قدرت نہیں رکھتا تو اس لئے کسی عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ وہ کنوارا ہی زندگی گزارے گا، اور کسی کی زندگی خراب نہیں کرے گا تو اس پر اس کو اجر ملے گا۔ لما في رد المحتار: الإباحة إن خاف العجز عن الإيفاء بموجبه. اهـ. أي خوفا غير راجح، وإلا كان مكروها تحريما (الرد مع الدر، كتاب الصلاة، 3/ 7 ط: سعيد) فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح