حمل ضائع ہونے کی صورت میں پیدا شدہ بچوں کے غسل، کفن اور وراثت کے شرعی احکام
سوال
ہم ضائع ہونے کی صورت میں پیدا شدہ بچہ (miscarried fetus) کی کتنی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ نیز ان کے غسل، کفن، نماز جنازہ، دفن، اور وراثت کے احکام کیا ہیں؟ اور اگر بچہ زندہ پیدا ہوا پھر مر گیا تو حکم کیا ہوگا؟
جواب
بچے کے پیدا ہونے کے بعد اگر اس میں زندگی کے آثار تھے یعنی وہ سانس وغیرہ لے رہا تھا، اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ یا کوئی اور زندگی کی علامت پائی جارہی تھی اور اس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا تو اس کو بڑوں کی طرح سنت طریقہ کے مطابق غسل بھی دیا جائے گا اور کفن دے کر نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
البتہ اس طرح کے بچے کو جس کی پیدائش کے وقت کوئی زندگی کی علامت نہیں پائی گئی یعنی وہ پیدا ہی مردا ہوا ہے تو اس کو غسل دیا جائے گا، لیکن مسنون کفن نہیں دیا جائے گا، بلکہ کسی ایک کپڑے میں لپیٹ کر بغیر نمازِ جنازہ کے دفن کر دیا جائے گا۔ ایسے بچے کا نام بھی رکھا جائے گا۔
اور اگر بچہ ناتمام پیدا ہو یعنی اس کے ہاتھ پاؤں منہ ناک وغیرہ عضو کچھ نہ بنے ہوں تو اسے نہلانے، کفنانے کی ضرورت نہیں، بلکہ کسی کپڑے میں لپیٹ کر ایک گڑھا کھود کر گاڑ دیا جائے۔ اور اگر ناتمام بچہ کے کچھ اعضاء بن گئے ہوں تو اس کا حکم وہی ہے جو مردہ بچہ پیدا ہونے کا ہے۔
اسی طرح وہ بچہ جو زندہ پیدا ہو کر فوراً مر جائے اس پر وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔
النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 119) ط: مؤسسة الرسالة
فأما الصنف الذي لا يغسل فهم سبعة اصناف۔۔۔ الخامس السقط وهو على ثلاثة أوجه
احدها ولد في نفسه وولد في غيره وهو الذي يولد من أمه حيا فانه يوجب عشرا من الاحكام ثلاثة في امه وسبعة في نفسه
فأما التي في امه
تصير أمه أم ولد
وتصير امه به نفساء
وتخرج الام به من العدة
واما التي في نفسه
فانه يرث ويورث منه ويحجب ويغسل ويكفن ويصلى عليه ويدفن
والثاني ولد في غيره ولا ولد في نفسه وهو الذي يولد من امه ميتا قد تبين اعضاءه فانه يوجب ستة اشياء فمن الاحكام ثلاثة في نفسه وثلاثة في أمه
فأما التي في امه فما ذكرناها في الاولى
واما التي في نفسه فانه يغسل ويكفن ويدفن وقال بعض الفقهاء لا يغسل
والثالث ولد في نفسه ولا ولد في غيره وهو الذي يسقط من امه لا يتبين شيء من اعضائه فأن رأت المرأة الدم ثلاثة أيام او فوقها الى عشرة أيام فانها حيض وان رأت دون الثلاث وفوق العشرة فانها استحاضة
فقط واللہ اعلم
حوالہ: جنائز