عاریت پر لی گئی دوسرے کی زمین میں درخت لگانے کی صورت میں مالک کون ہوگا؟
سوال
اگر زید نے عمرو کی زمین پر درخت لگائے ہیں تو ان درختوں کا مالک کون ہوگا؟
کیا زید درخت کٹوا کر لے سکتا ہے اور قیمت وصول کر سکتا ہے؟
جواب
برتقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں زید نے عمرو کی زمین میں جو درخت لگائے ہیں، وہ زید کی ملکیت ہے، زید انہیں کٹوا کرلے سکتا ہے، اور باہمی رضامندی سے درختوں کی قیمت پر اتفاق کرکے رقم بھی لے سکتا ہے، اس صورت میں درخت عمرو کی ملکیت ہوجائیں گے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
إذا استعار من آخر أرضا ليبني عليها أو ليغرس فيها، ثم بدا للمالك أن يخرجه فله ذلك سواء كانت العارية مطلقة أو موقتة، لما قلنا غير أنها إن كانت مطلقة له أن يجبر المستعير على قلع الغرس ونقض البناء
(كتاب العارية، فصل في بيان حال المستعار، 6/ 216، 217 ط: دارالكتاب الاسلامي)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: عاریت