فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عاریت پر لی گئی دوسرے کی زمین میں درخت لگانے کی صورت میں مالک کون ہوگا؟

فتویٰ نمبر 218202610089 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عاریت پر لی گئی دوسرے کی زمین میں درخت لگانے کی صورت میں مالک کون ہوگا؟

سوال
اگر زید نے عمرو کی زمین پر درخت لگائے ہیں تو ان درختوں کا مالک کون ہوگا؟ کیا زید درخت کٹوا کر لے سکتا ہے اور قیمت وصول کر سکتا ہے؟
جواب
برتقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں زید نے عمرو کی زمین میں جو درخت لگائے ہیں، وہ زید کی ملکیت ہے، زید انہیں کٹوا کرلے سکتا ہے، اور باہمی رضامندی سے درختوں کی قیمت پر اتفاق کرکے رقم بھی لے سکتا ہے، اس صورت میں درخت عمرو کی ملکیت ہوجائیں گے۔ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: إذا استعار من آخر أرضا ليبني عليها أو ليغرس فيها، ثم بدا للمالك أن يخرجه فله ذلك سواء كانت العارية مطلقة أو موقتة، لما قلنا غير أنها إن كانت مطلقة له أن يجبر المستعير على قلع الغرس ونقض البناء (كتاب العارية، فصل في بيان حال المستعار، 6/ 216، 217 ط: دارالكتاب الاسلامي) فقط واللہ اعلم
حوالہ: عاریت