میسج کے ذریعے ایجاب و قبول کرنے سے نکاح کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
جمیل اور زبیدہ نے موبائل میسج (SMS) کے ذریعے نکاح کرنے کی نیت سے ایک دوسرے کو ایجاب و قبول کے پیغامات بھیجے، کہ میں نے تم سے نکاح کیا اور اس نے جواب میں لکھ بھیجا میں نے اپنے نکاح میں قبول کیا۔
تو کیا اس طرح میسج کے ذریعے ایجاب و قبول کرنے سے شرعاً نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟
نیز اگر بعد میں زبیدہ نے کسی دوسرے شخص سے باقاعدہ شرعی طریقے پر نکاح کر لیا ہے جبکہ جمیل کے پاس موجود پرانے میسجز ہیں جو وہ لوگوں کو دکھاتا پھرتا ہے۔ کیا اس سے نکاح پر کوئی شرعی اثر پڑتا ہے؟
قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
بناء بر صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں جمیل اور زبیدہ کے بذریعہ میسج ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوا، جس کی درج ذیل وجوہ ہیں:
۱ ) انعقادِ نکاح کی ایک شرط ایجاب و قبول کرنے والوں کی مجلس کا ایک ہونا ہے، جبکہ یہاں دونوں کی مجلس مختلف ہے۔
۲ ) نکاح منعقد ہونے کی منجملہ شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شرعی گواہان (دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتیں ) كے ہاں ایجاب و قبول کرنے والے معلوم و متعین ہوں اور ان کے ایجاب و قبول کوسنیں، لہذا اگر گواہ موجود ہوں اور لڑکا یا لڑکی مجہول ہوں یا گواہ ایجاب و قبول کو سنیں ہی نہیں تو نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
۳) نکاح کےمنعقد ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ ایجاب و قبول اور شرعی گواہان سب کی مجلس ایک ہو، جبکہ یہاں گواہ سرے سے موجود ہی نہیں۔
۲،۳،۴) خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ طریقہ سے میسج پر ایجاب و قبول کرنے سے جمیل اور زبیدہ کا نکاح منعقد نہیں ہوا، اور اگر جمیل دوسروں کو وہ میسج دکھا بھی دے تو بھی زبیدہ کے بعد میں کئے ہوئے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
فی الدرالمختار :
ومن شرایٔط الایجاب القبول اتحاد المجلس لو حاضرین وان طال کمخیرۃ۔۔۔ ۔
وفي رد المحتار:
(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب۔۔۔ (كتاب النكاح ،۳/ ۱۴ ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :
(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح
(كتاب النكاح، فصل في شرائط الركن، ۲/۲۳۲ ط:دارالكتب العلميه)
وفی الدرایضاً:
( وشرط سماع کل من العاقدین لفظ الآخر) لیتحقق رضاہما ( و) شرط (حضور ) شاہدین ( حرین) أو حر وحرتین (مکلفین سامعین قولہما معا) علی الأصح (فاہمین ) أنہ نکاح علی المذہب ، بحر ۔(كتاب النكاح ، ۳/۲۱ ط:دارالفكر)
وفي الدر المختار:
ولا المنکوحۃ مجہولۃ۔۔۔۔ (كتاب النكاح ، ۳/۱۵ ط:دارالفكر)
وفي رد المحتار:
( تنبیہ ) أشار بقولہ فیما مر ولا المنکوحۃ مجہولۃ الی ما ذکرہ فی البحر ہنا بقولہ ولابد من تمییز المنکوحۃ عند الشاہدین لتنتفی الجہالۃ ۔۔۔۔ (كتاب النكاح ،۳/۲۱ ط:دارالفكر)
فی الہندیۃ :
وفی فتاوی أبی اللیث رجل قال لقوم اشہدوا أنی تزوجت ہذہ المرأۃ التی فی ہذا البیت فقالت المرأۃ قبلت فسمع الشہود مقالتہا ولم یروا شخصہا فان کانت فی البیت وحدہا جاز النکاح وان کانت فی البیت معہا أخری لا یجوز
(کتاب النکاح، الباب الأول فی تفسیرہ شرعا وصفتہ ورکنہ وشرطہ وحکمہ، ۱/۲۶۸ ط:دارالفکر)
هكذا في المحيط البرهاني (کتاب النکاح ، الفصل السابع فی الشہادۃ فی النکاح، ۴/۳۷ ط: دارالكتب العلميه
فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح