مسجد کی تزیین وزیںائش ذاتی رقم سے اتنی کرنا کہ نماز میں خشوع و خضوع خلل آنے لگے
سوال
ایک شخص نے اپنی ذاتی مال سے مسجد کی محراب کی دیوار کو مزین کیا ہے اور شیشے لگائے ہیں کہ بعض اوقات نماز پڑھتے ہوئے دھیان ان کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور توجہ نماز کی طرف کم ہو جاتی ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ مسجد کی تزیین اور زیبائش وقف رقم سے کی جا سکتی ہے؟ اور اگر ذاتی رقم سے کی جائے تو کیا یہ جائز ہے؟ اور اس کی حد کیا ہے جبکہ اس تزیین اور زیبائش کی وجہ سے نماز میں خلل بھی واقع ہو رہا ہو؟
جواب
واضح رہے کہ مسجد كی تزیین وقف کے مال سے کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی شخص اپنے ذاتی مال سے مسجد کی تزیین کرے تو اس کی اجازت ہے، لیکن اس قدر تزیین کرنا کہ دورانِ نماز نمازی کے خشوع و خضوع میں خلل آئے، مکروہ و ناپسندیدہ ہے۔
الفتاوى الهندية:
وكره بعض مشايخنا النقوش على المحراب وحائط القبلة؛
لأن ذلك يشغل قلب المصلي
(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد، 5/ 319 ط: دارالفكر)
الدر المختار
(ولا بأس بنقشه خلا محرابه) فإنه يكره لأنه يلهي المصلي۔۔۔ لو (بماله) الحلال (لا من مال الوقف) فإنه حرام
قال ابن عابدينؒ في رد المحتار:
(قوله لأنه يلهي المصلي) أي فيخل بخشوعه من النظر إلى موضع سجوده ونحوه، وقد صرح في البدائع في مستحبات الصلاة أنه ينبغي الخشوع فيها، ويكون منتهى بصره إلى موضع سجوده إلخ وكذا صرح في الأشباه أن الخشوع في الصلاة مستحب
(الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب الاستخلاف، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فروع أفضل المساجد، 1/ 658 ط: دارالفكر)
صورتِ مسئولہ میں محراب اگرچہ ذاتی مال سے مزین کیا گیا ہے، لیکن اس تزیین کی وجہ سے اگر نمازیوں کے خشوع و خضوع میں خلل آتا ہے، جیسا کہ سوال میں درج ہے، تو پھر اسی تزیین کرانے والاشخص یا کوئی اور مخیر شخص محراب میں ایسارد وبدل کروا دیں جس سے نمازیوں کے خشوع و خضوع خلل نہ آئے۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: نماز