نصاب کے برابر قرض دی ہوئی رقم واپس نہ مل رہی ہو تو قربانی کا حکم
سوال
اگر کسی کے پاس قربانی خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، لیکن اس نے کسی کو قرض دے رکھا ہے جو نصاب کے برابر جا پہنچتا ہے لیکن وہ مقروض تنگدست ہو چکا ہے اور فی الحال رقم دینے سے عاجز ہے، تو ایسے شخص پر قربانی لازم ہے یا نہیں جبکہ اس کے پاس موجودہ اتنے وسائل نہیں ہیں کہ جانور خرید سکے
جواب
صورت مسئولہ میں اگر مقروض سے قربانی کے پیسے مل جائیں تو اس سے لے کر قربانی کرے۔ اگر اس سے نہ ملیں تو پھر قربانی واجب نہیں۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 203)
سئل أيضا عن رجل له ديون مؤجلة، أو غير مؤجلة على رجل وهو مقر حتى جاء يوم النحر وليس في يده شيء وعليه شراء الأضحية هل عليه أن يستقرض ويشتري أضحية؟
فقال: لا قيل له: هل يجب على رب الدين أن يسأل المديون إذا غلب على ظنه أنه لو سأله أعطاه ثمن الأضحية، وإن كان مؤجلا؟ قال: نعم
الفتاوى الهندية (5/ 307)
قيل: لعلي بن أحمد لو كان لرجل دين على مقر مفلس هل تحل له الزكاة؟ . (قال: لا)، فقيل: وهل عليه الأضحية؟ . فقال: لا ما لم يصل إليه، كذا في التتارخانية.
له دين حال أو مؤجل على مقر ملي وليس في يده ما يمكنه شراء الأضحية لا يلزمه أن يستقرض فيضحي، ولا يلزمه قيمتها إذا وصل إليه الدين، لكن يلزمه أن يسأل منه ثمن الأضحية إذا غلب على ظنه أنه يدفعه
فقط واللہ اعلم
حوالہ: قربانی