فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

اسلام میں قرض کا جواز اور واپسی کے اصول

فتویٰ نمبر 217202610075 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

اسلام میں قرض کا جواز اور واپسی کے اصول

سوال
کیا اسلام میں قرض دینا جائز ہے؟ اور قرض کی واپسی کا طریقہ کیا ہے؟ کیا اصل رقم کے بدلے زیادتی لے سکتے ہیں؟
جواب
اسلام میں قرض کے لین دین کی گنجائش ہے البتہ اس میں ضروری ہے کہ جو رقم قرض میں دی جائے اتنی ہی واپس لی جائے زیادتی نہ کی جائے اگر زیادتی کی شرط لگائی تو یہ سود ہوگا جو حرام اور ناجائز ہے۔ چنانچہ تحفة الفقهاء (3/ 35) میں ہے: القرض جائز فيما له مثل من جنسه لأنه يجب عليه رد المثل كتاب الصرف، دار الكتب العلمية، بيروت   الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 161) فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة. كتاب البيوع، فصل في القرض، دار الكتب العلمية، بيروت فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاملات