فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عید الاضحیٰ میں قربانی نہ کرنے کی صورت میں صدقہ دینے کا حکم

فتویٰ نمبر 217202610074 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عید الاضحیٰ میں قربانی نہ کرنے کی صورت میں صدقہ دینے کا حکم

سوال
اگر کوئی شخص عید الاضحیٰ پر قربانی کرنا واجب ہونے کے باوجود بکری نہ خریدے اور وقت گزر جائے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا وہ بکری کی قیمت صدقہ کرکے بری الزمہ ہوسکتا ہے؟
جواب
اگر کسی آدمی پر قربانی واجب تھی لیکن اس نے قربانی نہیں کی تو اس پر ایک درمیانے بکرے کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے۔ تحفة الفقهاء میں ہے: ثم إن كان أوجب شاة بعينها أو اشتراها ليضحي بها فمضت أيام النحر قبل أن يذبحها تصدق بها حية ولا ينقص منها شيئا من الشعر واللبن ولا يأكل من لحمها لأنه انتقل الواجب من إراقة الدم إلى التصدق وإن لم يوجب أو لم يشتر والرجل موسر وقد مضت أيام النحر فإن عليه أن يتصدق بقيمة الشاة التي تجوز في الأضحية لما قلنا كتاب الأضحية، 3/ 84 ط: دار الكتب العلمية) بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے: وإن كان لم يوجب على نفسه ولا اشترى وهو موسر حتى مضت أيام النحر تصدق بقيمة شاة تجوز في الأضحية؛ لأنه إذا لم يوجب ولم يشتر لم يتعين شيء للأضحية وإنما الواجب عليه إراقة دم شاة فإذا مضى الوقت قبل أن يذبح - ولا سبيل إلى التقرب بالإراقة بعد خروج الوقت لما قلنا - انتقل الواجب من الإراقة والعين أيضا لعدم التعيين إلى القيمة وهو قيمة شاة يجوز ذبحها في الأضحية كتاب الأضحية ، فصل في أنواع كيفية الوجوب، 5/ 68 ط: دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: قربانی