فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قبرستان کی زمین میں لگے درخت اور آمدنی کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 217202610073 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قبرستان کی زمین میں لگے درخت اور آمدنی کا شرعی حکم

سوال
قبرستان میں لگے درختوں کو کاٹ کر حاصل شدہ رقم کس طرح خرچ کی جائے؟ کیا کسی فرد کو ذاتی استعمال میں خرچ کرنا جائز ہے؟ اگر کسی شخص نے درخت خود لگائے ہوں تو کیا صورت ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ قبرستان کی زمین وقف ہوتی ہے، کسی کی ملکیت نہیں ہوتی ، اور اس میں لگے درختوں کو اگر کاٹا جائے تو ان سے حاصل شدہ رقم قبرستان کی اصلاح پر لگانا ضروری ہے، کسی فرد کو ذاتی استعمال میں رقم خرچ کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ قبرستان کے درختوں سے جس قدر آمدنی حاصل ہوئی ہے وہ قبرستان کی اصلاح (چار دیواری، جنازہ گاہ کی تعمیر و اصلاح، وغیرہ ) میں خرچ کی جائے، اگر اس قبرستان کا کوئی مصرف نہیں ہے تو قریبی قبرستان میں رقم خرچ کی جائے۔ اور یہ حکم تب ہے  جب درخت خودرو ہوں یا قبرستان کے ساتھ وقف کئے گئے ہوں، اگر کسی شخص نے لگائے ہیں تو وہ اس کا مالک ہوگا۔ لما في المحيط البرهاني في الفقه النعماني: في «فتاوي أبي الليث» : مقبرة فيها أشجار فهذه المسألة على وجهين: أحدهما: أن تكون الأشجار نابتة قبل اتخاذ الأرض مقبرة، وأنه على وجهين أيضاً: إن كانت الأرض مملوكة لها مالك فالاشجار بأصلها على ملك رب الأرض يصنع بالأشجار وأصلها ما شاء؛ لأن موضع الأشجار من الأرض لم يصر مقبرة؛ لأنه مشغول بملك صاحب الشجر، وإن كانت الأرض مواتاً لا مالك لها واتخذها أهل القرية مقبرة؛ فالأشجار بأصلها على حالها القديم. الوجه الثاني: إذا نبتت الأشجار بعد اتخاذ الأرض مقبرة وإنه على وجهين أيضاً: إن علم لها غارس فهي للغارس لأنها ملك، وإن لم يعلم لها غارس فالحكم في ذلك إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها إلى عمارة المقبرة فله ذلك (كتاب الوقف، الفصل الثالث والعشرون: في المسائل التي تعود إلى الأشجار التي في المقابر،6/ 221  ط: دار الكتب العلمية) ولما في الفتاوى الهندية: مقبرة عليها أشجار عظيمة فهذا على وجهين: إما إن كانت الأشجار نابتة قبل اتخاذ الأرض أو نبتت بعد  اتخاذ الأرض مقبرة. ففي الوجه الأول المسألة على قسمين: إما إن كانت الأرض مملوكة لها مالك، أو كانت مواتا لا مالك لها واتخذها أهل القرية مقبرة، ففي القسم الأول الأشجار بأصلها على ملك رب الأرض يصنع بالأشجار وأصلها ما شاء، وفي القسم الثاني الأشجار بأصلها على حالها القديم. وفي الوجه الثاني المسألة على قسمين: إما إن علم لها غارس أو لم يعلم، ففي القسم الأول كانت للغارس، وفي القسم الثاني الحكم في ذلك إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها إلى عمارة المقبرة فله ذلك، كذا في الواقعات الحسامية. (كتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر، 2/ 474 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: قضاء و اِفتاء