فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بوسیدہ اور ناقابلِ قراءت قرآنِ کریم اور مقدس اوراق کو ٹھکانے لگانے کا شرعی طریقہ

فتویٰ نمبر 217202610067 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بوسیدہ اور ناقابلِ قراءت قرآنِ کریم اور مقدس اوراق کو ٹھکانے لگانے کا شرعی طریقہ

سوال
قرآنِ کریم یا دیگر مقدس اوراق جب اس قدر بوسیدہ اور پرانے ہو جائیں کہ ان سے پڑھنا ممکن نہ رہے، یا ان کے ضائع ہونے اور بے ادبی کا اندیشہ ہو، تو ان کو ٹھکانے لگانے کا شرعی اور درست طریقہ کیا ہے؟ کیا ایسے مصاحف یا مقدس اوراق کو دفن کرنا ضروری ہے یا جلانا، پانی میں بہانا، یا کسی مشین کے ذریعے حروف مٹا کر دریا یا سمندر میں ڈال دینا بھی جائز ہے؟ نیز ان تمام صورتوں میں کن امور کا لحاظ رکھنا لازم ہے؟
جواب
قرآن کریم جب اس قدر بوسیدہ ہوجائے کہ پڑھنے کے قابل نہ رہے تو ایسے  مصاحف کو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر کسی ایسی جگہ دفن کردے جہاں پر لوگوں کا گزر نہ ہوسکے یعنی کسی کے پاؤں کے نیچے نہ آسکیں، اور مناسب ہے کہ زمین میں لحد بنا لیا جائےاور شق نہ بنایا جائے تا کہ مٹی کے اوراق  پر گرنے سے بے ادبی نہ ہوسکے ، البتہ اگر شق بنایا جائے تو اس کے اوپر کوئی تختہ وغیرہ رکھ لیا جائے تاکہ مٹی گرنے سے ادنی قسم کی توہین نہ ہوسکے، یا کسی ویران کنویں میں وہ اوراق ڈال دئے جائیں۔ یہ ان مقدس بوسیدہ اوراق کی حفاظت کا سب سے احسن طریق ہے۔ الدر المختار: المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم وفي رد المحتار: (قوله: يدفن) أي يجعل في خرقة طاهرة ويدفن في محل غير ممتهن لا يوطأ. وفي الذخيرة وينبغي أن يلحد له ولا يشق له؛ لأنه يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا اهـ. وأما غيره من الكتب فسيأتي في الحظر والإباحة أنه يمحى عنها اسم الله تعالى وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن (الدر مع الرد، كتاب الطهارة، 1/ 177 ط:سعيد) الفتاوى الهندية: المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب. المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة. (كتاب الكراهية، الباب الخامس، 5/ 323 ط:دار الفكر) المحيط البرهاني في الفقه النعماني: وإذا صار المصحف خلقاً بحيث لا يقرأ منه لا يحرق؛ إليه أشار محمد رحمه الله في «السير» في باب ما يوجد من الغنيمة، فيكره قسمته، وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، ومن أراد دفنه ينبغي أن يلفه بخرقة طاهرة، ويحفر لها حفرة ويلحد ولا يشق؛ لأنه متى شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير واستخفاف بكتاب الله تعالى، وإن شاء غسله بالماء حتى يذهب ما به، وإن شاء وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد المحدثين، ولا تصل إليه النجاسة تعظيماً لكلام الله تعالى ) كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الخامس، 5/ 321 ط: دار الكتب العلمية) البناية شرح الهداية: وفي " جامع شمس الأئمة ": الرسائل والآثار والكتب التي لا منفعة فيها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله۔۔۔ فلو ألقاها في الماء الجاري أو دفنها لا بأس به.والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع (كتاب الكراهية، مسائل متفرقة، 12/ 238 ط: دار الكتب العلمية) قال الشرنبلالي: وإذا صار خلقا بحيث لا يقرأ فيه يجعل في خريطة ويدفن كالمسلم كذا في البزازية، (درر الحكام مع حاشية الشرنبلالي ، كتاب الكراهية والاستحسان، 1/ 318 ط: دار إحياء الكتب العربية) فقہاء کرامؒ نے اور بھی حفاظت کےطریقے ذکر کئے ہیں،جیسے  مقدس اوراق پر پانی (یا کوئی کیمیکل) بہا کر حروف کو مٹا دیا جائےاور پانی کو کسی کنویں یا ٹینکی یا کسی ایسی جگہ بہا دیا جائے جہاں کسی قسم کی نجاست یا پاؤں نہ پہنچ سکیں، یا پانی اور باقی بچ جانے والے گودے کو دریا برد یا سمندر برد کردیا جائے۔ النهر الفائق شرح كنز الدقائق: ولو كان فيما أصابوه مصحفا فيه شيء من كتب اليهود والنصاري لا يدرى أفيه شيء من الكتب السماوية أو كفر لا يدخله الإمام الغنيمة للقسمة مخافة أن يقع في سهم رجل فيبيعه من المشركين وذلك مكروه، ولا ينبغي أن يحرق مخافة أن يكون فيه شيء من أسماء الله تعالى. قالوا: وتصير هذه المسألة رواية عن الأصحاب في المصحف إذا خلق بحيث لا يقرأ فيه أن لا يحرق بالنار، وإذا كره إحراقه ينظر إن كان لورقه قيمة وينتفع به بعد المحو بالغسل بأن كان مكتوبا على جلد مدبوغ أو ما أشبه ذلك فإنه يمحى ويجعل الورق في الغنيمة وإلا يغسل ويدفن وهو على كل حال إن كان لا يتوهم وصول الكفرة إليه يدفن وإن توهم لا يدفن كذا في (التاتارخانية) (كتاب الجهاد، باب الغنائم وقسمتها، 3/ 210 ط: دار الكتب العلمية) فتاوى قاضيخان: إن كانت كتب الرسائل و فيها اسم الله تعالى و استغنى عنها صاحبها و يجب ألا تقرأ قالوا أحب إلينا أن يمحي ما كان فيها من اسم الله تعالى ثم يحرقها أو يرميها في الماء الجاري الكثير فإن دفنها في الأرض الطاهرة لا ينالها كان ذلك حسنا و لا أحب أن يحرقها بالنار ما لم يمح ما كان فيها من اسم الله تعالى و الأنبياء و الملائكة (فتاوى قاضيخان، كتاب السير) سائل نے جو طریقہ ذکر کیا ہے کہ وہ مقدس اوراق کو کسی مشین میں پہلے ڈال دیتے ہیں کہ اس میں اس قدر باریک ہو جاتے ہیں کہ حروف مٹ جاتے ہیں اور پھر ان کو پاک دریا یا سمندر میں ڈال دیا جاتا ہےتو یہ بھی جائز ہے، لیکن اس بات کا خصوصاً اہتمام کیا جائے کہ اس مذکورہ عمل میں ایسا کام سے حتی الامکان بچا جائے جس میں ذراسی بے ادبی کا شائبہ ہو۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت