وقف شدہ پلاٹ کی فروخت اور متبادل مکان خریدنے کا حکم
سوال
ہماری مسجد کو آج سے بہت عرصہ پہلے ایک آدمی نے پلاٹ وقف کیا ، جس میں کچھ مرتبہ نمازِ جنازہ اور عید کی نماز ادا کی گئی، چونکہ وہ پلاٹ مسجد سے کچھ فاصلہ پر تھا، اس لئے انتظامیہ نے اس کو ساڑھے نو لاکھ میں فروخت کرکے مسجد کے قریب ایک مکان امام کیلئے ساڑھے سات لاکھ میں لیا، اور بقیہ دو لاکھ مسجد کی تعمیر میں صرف کرنے کا ارادہ ہے۔
آپ سے پوچھنا یہ ہےکہ کیا مذکورہ پلاٹ کو فروخت کرکے مکان خریدنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ آدمی نے پلاٹ وقف کرتے وقت متولی یاکسی دوسرے شخص کو موقوفہ پلاٹ کودوسری جگہ سےتبدیل کرنےيابوقتِ ضرورت اس كوبیچ كردوسری زمین خریدنے کا اختیار نہ دیا ہو تواس صورت میں مذکورہ پلاٹ کوبیچ کردوسری جگہ خریدنا یااس کو دوسری جگہ سے تبدیل کرناجائزنہیں ہے۔
لما في الدر المختار:
(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)
قال ابن عابدين:
(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر؛ ويستثنى من عدم تمليكه ما لو اشترط الواقف استبداله وسيأتي الكلام عليه۔۔۔
(الدر مع الرد،کتاب الوقف، 4/ 351،352 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف