فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والد کا کاروبار میں سے کسی بیٹے کو زیادہ دینا اور بیٹے کی خفیہ بنائی گئی جائیداد کو والد معاف کردے تو شرعی حکم

فتویٰ نمبر 130202610046 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والد کا کاروبار میں سے کسی بیٹے کو زیادہ دینا اور بیٹے کی خفیہ بنائی گئی جائیداد کو والد معاف کردے تو شرعی حکم

سوال
۱۔ ایک والد کے چھ بیٹے ہیں جو کہ اس کے کاروبار میں ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، کاروبار والد کا ہی ہے،اگر والد کسی بیٹے کو کچھ رقم زیادہ دیتے ہیں تو بقیہ پانچ بیٹے دل میں اور آمنے سامنے بھی اعتراض کرتے ہیں، جبکہ والد ہی کاروبار کے مالک ہیں، تو کیا والد کسی بیٹے کو کچھ زیادہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اور دیگر بیٹوں کا اعتراض کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ ۲۔ مذکورہ چھ بیٹوں میں سے ایک نے مذکورہ کاروبار سے خفیہ جائیداد بنالی، جس کا دیگر بھائیوں اور والد کو علم نہیں تھا، پھر بیٹے نے بعد میں والد کو بتا دیا کہ یہ جائیداد میں نے اس کاروبار سے بنائی ہے،والد کو کہا کہ یہ جائیداد آپ کی ہے، آپ چاہیں تو لے لیں یا چاہیں تو مجھے دے دیں۔۔۔تو والد نے وہ جائیداد اسی بیٹے کو دے دی اور معاف بھی کردیا تو کیا اس جائیداد کے ملنے پر دوسرے بیٹے اعتراض کرسکتے ہیں یا نہیں؟ یہ جائیداد مذکورہ بیٹا رکھ سکتا ہے یا نہیں؟جزاكم الله خيراً
جواب
۱۔ اگر واقعۃً حقیقت میں کاروبار والد کا ہی ہے اور بیٹے ساتھ معاونت کرتے ہیں تو والد مکمل کاروبار کا مختارِ کل ہے، اور کسی بیٹے کو معقول عذر کی وجہ سے زیادہ خرچ دینے میں بااختیار ہے، دیگر بیٹوں کا اعتراض کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔تاہم زیادہ فرق کرنا جس سے دوسروں کو ضرر ہو، ایسا کرنا شرعاً مکروہ ہے۔ لما في مجلة الأحكام العدلية: كل يتصرف في ملكه كيفما شاء (الكتاب العاشر: الشركات، الباب الثالث، الفصل الأول، رقم المادة :1192، ص: 230 ط: نورمحمد) ۲۔ اگر حقیقت میں کاروبار والد نےہی شروع کیا تھا اور بیٹے ساتھ معاونت کرتے ہیں تو کسی بیٹے کا اس کاروبار کی کمائی سے خفیہ طور پر جائیداد وغیرہ بناناشرعاً ناجائز ہے، والد کو واپس کرنا لازم ہے، البتہ اگر واقعۃً بیٹے کو جائیداد کی خبر ہوجانے کے بعد دے دی تھی تو مذکورہ بیٹا ہی اس کا مالک ہوگا اورمذکورہ جائیداد والد کے ترکہ میں شمار نہ ہوگی۔یہ حکم تب ہے جب والد کی زندگی میں ہی بقیہ ورثاء کو اس کی خبر ہوجائے، اگر والد کی وفات کے بعد کوئی بیٹا کسی جائیداد کے متعلق مذکورہ طریقہ پر مالک ہونے کا دعوی کرے تو اس کی بات شرعی بینہ موجود ہونے یا دیگر ورثاء کے اس کی بات کو قبول کرلینے کی صورت میں معتبر ہوگی، اگر شرعی بینہ نہ ہوں اور نہ ہی دیگر ورثاء اس کی بات کو قبول کریں تو مذکورہ طریقہ پر بنائی گئی جائیداد والد کے ترکہ میں شمار ہوکر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔ قال ابن عابدينؒ في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وابن اكتسبا ولم يكن لهما مال فاجتمع لهما من الكسب أموال الكل للأب لأن الابن إذا كان في عياله فهو معين له (كتاب الشركة، شركة العنان، 1/ 94 ط: دار المعرفة) ولما في الدر المختار: (ویجب رد عین المغصوب) ما لم تغیر تغیرا فاحشا مجتبی (فی مکان غصبه)۔۔۔ و یبرأ بردها ولو بغير علم المالك (كتاب الغصب، 6/182 ط:سعيد) فقط واللہ اعلم
حوالہ: غصب