فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والد کی زندگی میں بیٹے کو دی گئی بڑی رقم، ناجائز کاروبار اور" ترکہ" میں شمولیت کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 130202610045 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والد کی زندگی میں بیٹے کو دی گئی بڑی رقم، ناجائز کاروبار اور" ترکہ" میں شمولیت کا شرعی حکم

سوال
میرے والد "مجاہد قریشی" کا انتقال ہوگیا ہے،انھوں نے پہلے کوثر بی بی سے نکاح کیا جس سے دو بیٹے(عبدالرحمان،عبیداللہ)اور دوبیٹیاں(سحر گل،صالحہ گل) پیدا ہوئیں،پھر کوثر بی بی کا انتقال ہوگیا، پھر ثمینہ مجاہد سے نکاح ہوا، جس سے تین بیٹے(ابو بکر، عمر مجاہد، محمد عثمان) پیدا ہوئے۔ والد نے اپنی زندگی میں مکان فروخت کرکے تقریبا ً ۴۵ لاکھ روپے ابو بکر کو دئیے، کہ جو اس نے اپنے دوست کے ساتھ کاروربار میں ڈال دئیے۔ مہربانی فرما کر یہ بتا دیں کہ مذکورہ ۴۵ لاکھ ترکہ میں شامل ہوں گے یا نہیں؟ وضاحت: ابو بکر نے اپنے دوست (فراز احمد )کے ساتھ کاروبار میں ۴۵ لاکھ کی رقم لگائی ، اس طرح کہ فراز احمدنےابوبکر کو یہ آفرکی کہ آپ کے والد ایک مکان بیچ کر اس کا سرمایہ مجھے دے دیں تومیں اس کا کرایہ (۲۵ ہزار روپے) ماہانہ آپ کو دوں گا، اورآپ کے سرمایہ کے نفع سے آپ کو دو مکان بنا کر دوں گا، پھر آپ کو ماہانہ کرایہ دینا چھوڑ دوں گا۔ تو ابو بکر نے یہ بات والد کو کہی تو والد صاحب راضی ہو گئے اور انھوں نے مکان بیچ کرتقریبا ۴ لاکھ خود رکھ لئے اور ۴۵ لاکھ ابوبکر کو فراز احمدکے ساتھ کاروبار کیلئے دے دئیے۔۔ پھرکچھ نقصان ہوگیا تو والد صاحب نے کہا کہ فراز احمد جتنی رقم لی ہے، اتنی واپس کردے تو بھی ٹھیک ہے، لیکن والدہ نے کہا کہ نہیں وہ ان شاء اللہ اپنی بات پر پورا اترے گا،پھر والد نے کہا کہ صرف ایک ہی مکان سات مرلے کادے دے تو کافی ہے۔اور یہ تمام معاملہ صرف زبانی ہوا، تحریری کچھ نہیں ہے۔ شرعا یہ معاملہ جائز ہے؟ جزاكم الله خيراً
جواب
صورتِ مسئولہ میں مجاہد قریشی کو دی ہوئی رقم سے ابوبکر (بیٹے)نے فراز احمد سے جو معاملہ کیا ، وہ شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا فراز احمد کے ذمہ صرف ۴۵ لاکھ ابوبکر کو دینے لازم ہیں، اور ماہانہ جو ۲۵ ہزاررقم وصول ہوتی رہی وہ 25 لاکھ سے منھا ہوگی ، اور ملنے والی رقم مجاہد قریشی کے ترکہ میں شمار ہوکر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگی۔   المبسوط للسرخسيؒ: لأن التركة بعد الموت قبل القسمة مبقاة على حكم ملك الميت (كتاب الوصايا، 29/ 13 ط: دارالمعرفة) فقط واللہ اعلم
حوالہ: شرکت