والد کے کاروبار سے خفیہ رقم لینے، معافی اور اس رقم کے حلال ہونے کا شرعی حکم
سوال
ایک والد کے چھ بیٹے ہیں، کاروبار والد کا ہے،بیٹے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ایک بیٹے نے والد اور دیگر بھائیوں سے چھپ کر اسی کاروبار سے خفیہ رقم لی ہے، جس کی مقدار کا صرف اسی کو علم ہے۔جس بیٹے نے خفیہ رقم لی ہے، وہ اب والد سے لی گئی رقم کی مقدار بتائے بغیر معافی مانگتا ہے۔
اگر والد اس کو رقم معاف کردےتو اس کیلئے وہ رقم حلال ہوگی یا قیامت کے دن اس سے اس پر مؤاخذہ ہوگا؟نیز والد کے معاف کردینے کی صورت میں باقی بھائی قیامت کے دن خفیہ رقم لینے والے سے کچھ مطالبہ کرسکیں گے یا نہیں؟جبکہ کاروبار والد صاحب ہی کا ہے۔بينوا فتوجروا
جواب
کاروبار والد کا ہونے کی صورت میں وہی اس کا مالک و مختارِ کار ہے، بیٹوں کی حیثیت اجیر(مزدور) کی سی ہے، لہٰذا کسی بیٹے کا مذکورہ کاروبار سے خفیہ رقم لینا حرام ہے اور اس کیلئے وہ رقم حلال نہیں ہے، بلکہ والد ہی کو واپس کرنا ضروری ہے۔
کما قال ابن عابدينؒ في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وابن اكتسبا ولم يكن لهما مال فاجتمع لهما من الكسب أموال، الكل للأب لأن الابن إذا كان في عياله فهو معين له (كتاب الشركة، شركة العنان، 1/ 94 ط: دار المعرفة)
ولما في الدر المختار:
(ویجب رد عین المغصوب) ما لم تغیر تغیرا فاحشا مجتبی (فی مکان غصبه)۔۔۔ و یبرأ بردها ولو بغير علم المالك (كتاب الغصب، 6/182 ط:سعيد)
البتہ اگر والد وہ رقم اسی کو معاف کردے تو پھروہ رقم اس کیلئے حلال ہوگی،تاہم پوری رقم بتا کر معاف کرانا بہتر ہے؛کیونکہ رقم زیادہ ہونے کے علم ہوجانے کی صورت میں معاف نہ کرنے کا شبہہ موجود ہے۔
باقی والد کے رقم معاف کردینے کے بعد دیگر بیٹوں کو مذکورہ بیٹے سے کسی قسم کے حق کا مطالبہ نہ دنیا میں ہے اور نہ ہی آخرت میں ہوگا۔
یہ حکم تب ہے جب والد کی زندگی میں ہی بقیہ ورثاء کو اس کی خبر ہوجائے، اگر والد کی وفات کے بعد کوئی بیٹا کسی جائیداد کے متعلق مذکورہ طریقہ پر مالک ہونے کا دعوی کرے تو اس کی بات شرعی بینہ موجود ہونے یا دیگر ورثاء کے اس کی بات کو قبول کرلینے کی صورت میں معتبر ہوگی، اگر شرعی بینہ نہ ہوں اور نہ ہی دیگر ورثاء اس کی بات کو قبول کریں تو مذکورہ طریقہ پر بنائی گئی جائیداد والد کے ترکہ میں شمار ہوکر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: شرکت