فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والد کی طرف سے نان نفقہ میں کوتاہی اور بیٹے کا کاروبار سے رقم لینے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 130202610041 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والد کی طرف سے نان نفقہ میں کوتاہی اور بیٹے کا کاروبار سے رقم لینے کا شرعی حکم

سوال
اگر کوئی والد اپنے بیٹے کو جیب خرچ نہ دیتا ہو اور نہ اس کا درست علاج کرواتا ہو، اور بیٹا والد کے کاروبار میں کام کرتے ہوئے کچھ رقم جمع کرلے، تو کیا وہ رقم بیٹے کے لیے حلال ہے؟ نیز والد کی ایسی کوتاہی کا شرعی حکم کیا ہے اور بیٹے کے لیے درست طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟
جواب
سائل کے والد کا سائل کو جیب خرچ نہ دینا اور نہ درست علاج کرانا اخلاقاً درست نہیں۔ والد کو چاہیے کہ وہ بیٹے کو بطور ملازم رکھ لے اور ماہانہ اجرت دیا کرے اور سائل اسی سے اپناخرچ و علاج معالجہ کرلیا کرے۔ اگر والد صاحب کچھ نہیں دیتے تو پھر سائل خاموشی سے اپنا علیحدہ کام کرلے۔ باقی سائل نے جورقم والدصاحب کے کاروبار سے اکٹھی کی ہے وہ سائل کیلئے حلال نہیں، بلکہ اس کے والد کی ملکیت ہے۔ سائل کو چاہیے کہ اس رقم کو والد تک پہنچا دے اور والد کو بتانا ضروری نہیں کہ رقم آپ کی ہے اور میں نے اس طرح جمع کی تھی، بلکہ ان کو جائز کیش یا کسی طریقے ان تک پہنچا دے۔لما في الدر المختار:     (ویجب رد عین المغصوب) ما لم تغیر تغیرا فاحشا مجتبی (فی مکان غصبه)۔۔۔ و یبرأ بردها ولو بغير علم المالك (كتاب الغصب، 6/182 ط:سعيد) فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت