فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ہالووین HALLOWEEN تہوار منانے کا حکم

فتویٰ نمبر 126202610035 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ہالووین HALLOWEEN تہوار منانے کا حکم

سوال
1۔ ہالووین (Halloween) تہوار منانے کا کیا حکم ہے؟ نیز اس زمانے میں لوگ اسکو مذہبی تہوار کے طور پر مناتے ہیں یا معاشرتی؟ 2۔اگر غیر مسلم مذہبی تہواروقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی تہواربن جائے تو کیا اس کو منانے کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مذہبی تہوار وقت کے ساتھ ساتھ غیر مذہبی معاشرتی تہوار بن سکتا ہے؟ اگر اس مذہب والے اسکو صرف بطور معاشرتی تہوار منائیں؟
جواب
  واضح رہے کہ اسلام میں کسی بھی دوسرے مذہب کا تہوار منانا جائز نہیں ہے، بلکہ اگر ان کے دین کی تعظیم مقصد ہو تو اندیشہ کفر ہے، اور اگر تعظیم مقصد نہ ہو دینا جائز نہیں، اور یہ بات بھی یاد رہے کہ ہر مذہب والے اپنے تہوار کو مذہبی تہوار سمجھ کر مناتے ہیں، اسے معاشرتی تہوار نہیں سمجھتے، اور کوئی مذہبی تہوار مذہبی ہونے کے ساتھ معاشرتی اس وقت بنتا ہے جب پورا معاشرہ اسی مذہب کا پیرو کا ر ہو ، ورنہ وہ تہوار صرف مذہبی ہی ہوتا ہے، لہذاصورت مسئولہ میں ہالووین تہوار ( جو کہ ہر سال 31 اکتوبر کو اس عقیدے کی یاد میں منایا جاتا ہے کہ اس رات مردوں کی روحیں دنیا میں واپس آتی ہیں، یہ مغربی ممالک زیادہ تر عیسائی ممالک کے لوگ مناتے ہیں، لیکن آج کل اسے مختلف مذاہب کے لوگ بھی تفریح کے طور پر مناتے ہیں ) منانا جائز نہیں ہے، یہ تہوار منا کر گویا ان کے باطل اور شرکیہ عقائد و نظریات کی تائید ہے،اور یہ تہوار منانے سے اگر ان کے دین کی تعظیم مقصد ہو تو اندیشہ کفر ہے، نیزاس تہوار کا دل میں احترام کرنا بھی گناہ کا سبب ہے۔   المفاتيح في شرح المصابيح میں ہے:   "عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من تشبه بقوم فهو منهم".   قوله: "من تشبه بقوم فهو منهم"؛ يعني: من شبه نفسه بالكفار في اللباس وغيره من المحرمات، فإن اعتقد تحليله فهو كافر، وإن اعتقد تحريمه فقد أثم، وكذلك من ‌شبه ‌نفسه ‌بالفساق، ومن شبه نفسه بالنساء في اللباس وغيره فقد أثم."   (كتاب اللباس: 5/ 18، ط: دار النوادر)   الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے:   "وفي الانتصار: من تزيا بزي الكفار من لبس غيار أو ‌شد ‌زنار أو تعليق صليب بصدره حَرُم ولم يكفر، وميل كلام بعضهم إلى الكفر، وفي الفصول: إن شهد عليه أنه كان يعظم الصليب مثل أن يقبله أو يتقرب بقربانات أهل الكفر ويكثر من دخول بيعهم وبيوت عباداتهم احتمل أنه ردة، وهو الأرجح؛ لأن المستهزئ بالكفر يكفر، ولأن الظاهر أنه يفعل ذلك عن اعتقاد."   (ص:218، ط:دار التقوى سوریا)   فتاوی تاتارخانیۃ میں ہے:   "اجتمع المجوس یوم النیروز فقال مسلم: "خوب رسمے نہادہ اند"، أو قال: "نیک آئیں نہادہ اند" یخاف علیه الکفر"۔   (احکام المرتدین، فصل فی الخروج الی النشیدۃ والذھاب الی ضیافۃ المجوس: 5/ 519، ط: ادارہ القران کراچی) فقط واللہ اعلم      
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت