فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عیسائیوں کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانے پینے کا حکم

فتویٰ نمبر 126202610034 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عیسائیوں کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانے پینے کا حکم

سوال
سوال کسی ادارے یا کمپنی میں اگر عیسائی اور مسلمان اکٹھے کام کرتے ہوں تو کیا وہ ایک ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں؟ ایک پلیٹ میں یا ایک گلاس میں پانی پی سکتے ہیں؟
جواب
اگر برتن میں کوئی نجاست نہ ہو اور عیسائیوں کے منہ، یا ہاتھ پر بھی کوئی نجاست نہ لگی ہوئی ہو اور کھانے پینے میں بھی کسی حرام چیز کی آمیزش نہ ہو، تو عیسائی کے ساتھ کبھی کبار ایک برتن میں کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ ان کے ساتھ مستقل کھانے پینے کو عادت بنانا درست نہیں ہے، مکروہ ہے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔   فتاوی بزازیہ میں ہے:   "والأكل مع الكفار لو ابتلى به المسلم لابأس لو مرة أو مرتين، أما الدوام عليه يكره."   (الفتاوى البزازية، كتاب الكراهية، الفصل الثالث فيما يتعلق بالمناهي (6/ 359)، ط. رشيديه، كوئته، باكستان) فقط واللہ اعلم      
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت