فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

جانوروں کے ایمبریو (جنین) ، مادہ منویہ sperm کی خرید وفروخت کا حکم

فتویٰ نمبر 126202610033 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

جانوروں کے ایمبریو (جنین) ، مادہ منویہ sperm کی خرید وفروخت کا حکم

سوال
دورِ حاضر میں جانوروں کی مصنوعی تخم ریزی (Artificial Insemination) کا عمل حکومتی و عوامی سطح پر عام ہو چکا ہے، ہزاروں افراد اس عمل میں استعمال ہونے والے بیج (Sperm) کی خرید و فروخت پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، اگرچہ شریعت میں اس عمل (نطفے کی خرید و فروخت) کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، لیکن چونکہ موجودہ دور میں اس کی شدید ضرورت پیش آتی ہے، اور ہر شخص مکمل جانور خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اس لیے تخم (Sperm) مارکیٹ میں مناسب قیمت میں دستیاب ہوتا ہے، جس کے استعمال سے ملک و قوم کو مجموعی طور پر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مصنوعی تخم ریزی کے جدید طریقوں میں ایک اور طریقہ ایمبریو ٹرانسپلانٹیشن (Embryo Transplantation / IVF) بھی ہے، جس میں نر جانور کا نطفہ اور مادہ جانور کا انڈا لیبارٹری میں ملا کر ایمبریو (جنین) تیار کیا جاتا ہے، اور اسے کسی دوسری گائے کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔ تو کیا جانوروں کے اسپرم اور ایمبریو کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہےیا نہیں؟ کیوں کہ اس عمل کے تحت مختلف گروپس کام کررہے ہیں اور گائے کے بچے(جنین کی شکل میں) فروخت کررہے ہیں جس کا ابھی نہ کوئی وجود ہے، اور نہ کوئی ظاہری شکل ہوتی ہے۔
جواب
  واضح رہے کہ جانوروں کی افزائشِ نسل کے لیے مادہ کے رحم میں نر کا مادۂ منویہ (اسپرم، ایمبریو وغیرہ) مصنوعی طریقے سے پہنچانا جائز ہے، لیکن خلافِ فطرت ہونے کی وجہ سے بہتر نہیں ہے۔    صورتِ مسئولہ میں جانوروں کے اسپرم (نطفہ) اور ایمبریو (جنین) کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں، اور نہ ہی اس کے کاروبار کرنا جائز ہے، کیوں کہ اسپرم اور ایمبریو شرعی لحاظ سے نجس اور مالِ غیر متقوم ہیں، جب کہ بیع صحیح ہونے کے لیے مال اور متقوم ہونا ضروری ہیں، علاوہ ازیں، ایمبریو میں غرر(دھوکہ) بھی پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا بیچنا جائز نہیں ہے۔   بدائع الصنائع میں ہے:   "فإن كان ‌متولدا من الوحشي والإنسي فالعبرة بالأم فإن كانت أهلية يجوز وإلا فلا حتى إن البقرة الأهلية إذا نزا عليها ثور وحشي فولدت ولدا فإنه يجوز أن يضحى به، وإن كانت البقرة وحشية والثور أهليا لم يجز؛ لأن الأصل في الولد الأم؛ لأنه ينفصل عن الأم وهو حيوان متقوم تتعلق به الأحكام وليس ينفصل من الأب إلا ماء مهين لا حظر له ولا يتعلق به حكم."   (كتاب التضحية، فصل في محل إقامة الواجب في الأضحية، 69/5، دار الكتب العلمية)   فتاوی شامی میں ہے:   "(بطل بيع ما ليس بمال) والمال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع درر ... (و) بيع (الحمل) أي الجنين، وجزم في البحر ببطلانه كالنتاج ... (قوله وبيع الحمل) بسكون الميم (قوله وجزم في البحر ببطلانه) «لنهيه صلى الله عليه وسلم عن المضامين والملاقيح وحبل الحبلة» ، ولما فيه من الغرر وتقدم أن بيع الثلاثة باطل، واعترض في اليعقوبية التعليل بالغرر، وهو الشك في وجوده بأنه ينبغي عليه أن لا يجوز بيع الشيء الملفوف الموصوف لأنه يحتمل أن لا يوجد شيء أو وصفه المذكور مع تصريحهم بجوازه. اهـ. قلت: فيه أنه لا غرر فيه؛ لأنه يسهل الاطلاع عليه، بخلاف الحمل فتدبر."   (كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، 5/ 62، ط: سعيد)   بدائع الصنائع میں ہے:    "ولاينعقد بيع الملاقيح، والمضامين الذي، ورد النهي عنه؛ لأن المضمون ما في صلب الذكر، والملقوح ما في رحم الأنثى، وذلك ليس بمال، وعلى هذا أيضاً يخرج بيع عسب الفحل؛ لأن العسب هو الضراب، وأنه ليس بمال، وقد يخرج على هذا بيع الحمل أنه لاينعقد؛ لأن الحمل ليس بمال."   (كتاب البيوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، 5/ 145، ط: دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم      
حوالہ: بیوع