فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مدرسہ کی زمین کا ایک حصہ گلی میں شامل کرنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 126202610030 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مدرسہ کی زمین کا ایک حصہ گلی میں شامل کرنے کا شرعی حکم

سوال
ہمارے علاقے میں گلی بہت تنگ ہے اور لوگوں کو آمد و رفت میں شدید دشواری پیش آتی ہے، جبکہ مدرسہ کی زمین کا ایک حصہ اس گلی کے ساتھ واقع ہے اور فی الحال مدرسہ کو اس حصے کی فوری ضرورت بھی نہیں ہے؟ کیا شرعاً مدرسہ کی زمین کے اس حصے کو گلی میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ نیز اگر شامل کیا جائے تو کیا اس کے بدلے مدرسہ کے لیے دوسری جگہ لینا ضروری ہوگا؟
جواب
الجواب حامدًا ومصليًا بر تقدیر صحت سوال صورتِ مسئولہ میں اہل علاقہ کی ضرورت کے پیشِ نظر مدرسہ کے مذکورہ حصہ کو گلی میں شامل کرنے کی گنجائش ہے، خصوصاً جبکہ مذکورہ مدرسہ کا وقف تام ہونا محلِ نظر ہے۔البتہ اس کے متبادل پانچ مرلہ جگہ مدرسہ کیلئے لے لی جائے۔ فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: اذا کان الطریق ضیقا و المسجد واسعا لا یحتاجون الی بعضه تجوز الزيادة في الطريق من المسجد؛ لان كلها للعامة (كتاب الوقف، رقم المسئلة، ۱۱۵۰۳، رقم الفصل ۲۱، ۸/ ۱۵۸، ۱۵۹، ط: رشیدیة) فقط واللہ اعلم      
حوالہ: وقف