فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

میڈیکل اسسٹنس اِن ڈائنگ (MAID) کے ذریعے موت اختیار کرنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 125202610027 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

میڈیکل اسسٹنس اِن ڈائنگ (MAID) کے ذریعے موت اختیار کرنے کا شرعی حکم

سوال
یرا سوالMedical Assistance in Dying(MAID) کے متعلق ہے۔ MAIDمیںڈاکٹر یا نَرس کسی شدید بیمار مریض کو، اس کی درخواست پر، ایسی دوا فراہم کرتے یا دیتے ہیں جس سے مریض کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا مقصد ایسے مریضوں کو تکلیف سے نجات دینا بتایا جاتا ہےجو لا علاج بیماری میں مبتلا ہوں، یا شدید جسمانی یا ذہنی تکلیف برداشت کر رہے ہوں، اور اپنی مرضی سے یہ مریض زندگی ختم کرنے کی درخواست کریں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیاMAIDکا استعمال کرنا جائز ہے؟ کیاMAID کو اختیار کرنے کی شریعت میں کوئی گنجائش ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب
  صورتِ مسئولہ میں جس عمل کو MAID (Medical Assistance in Dying) کہا جاتا ہے، یعنی مریض کی درخواست پر ڈاکٹر یا نرس کا دوائیں دے کر یا کسی اور طریقے سے اس کی زندگی ختم کر دینا، یہ شرعاً قتلِ نفس کے حکم میں آتا ہے، خواہ مریض لاعلاج بیماری میں مبتلا ہو، شدید تکلیف میں ہو یا خود اپنی رضا مندی سے اس کا مطالبہ کرے۔ اسلامی شریعت میں انسانی جان کو نہایت محترم قرار دیا گیا ہے، اور کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی جان لے یا کسی دوسرے سے اپنی جان دلوائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (سورۃ النساء: 29) ترجمہ: اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر نہایت مہربان ہے۔ اور ایک اور مقام پر فرمایا: وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ (سورۃ الانعام: 151) نبی کریم ﷺ نے بھی خودکشی کو سخت گناہ قرار دیا ہے اور ایسے شخص کے لیے سخت وعید بیان فرمائی ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) لہٰذا: مریض کے لیے اپنی موت کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔ ڈاکٹر یا نرس کے لیے ایسی دوا دینا یا کوئی ایسا عمل کرنا جس سے مریض کی جان ختم ہو، حرام اور ناجائز ہے۔ تکلیف اور بیماری پر صبر کرنا، علاج کروانا اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی امید رکھنا ہی شرعاً درست طریقہ ہے۔ ہاں، اگر علاج بے فائدہ ہو تو غیر ضروری مشینوں یا تکلیف دہ علاج کو ترک کیا جا سکتا ہے، لیکن جان بوجھ کر موت دینا یا لینا کسی صورت جائز نہیں۔ لہٰذا MAID کو اختیار کرنا اور اس پر عمل کرنا شریعتِ اسلامیہ میں جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم      
حوالہ: حظر و اباحت